12 مارچ 2017 - 05:33
بحرینی عوام کے درد ورنج اورآل خلیفہ کےمظالم

گزشتہ روزعیسوی سال کے رواں مہینے کی دس تاریخ کو بحرین کی مرکزی جیل کے قیدیوں کے قیام کا دن تھا کہ جو حکومتی فورسزکے خلاف قیدیوں کے توسط سے وقوع پذیرہوا تھا تاہم بحرینی حکومت کے ظالمانہ اوروحشیانہ اقدامات کے ذریعے یہ قیام شکست کھا گیا تھا اوراس ملک کی ساری جیلوں سےاس ظلم کےخلاف احتجاج کی فریاد بلند ہوئی تھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ المنار نے(ذوالفقار ضاہر) کے تحریر کردہ آرٹیکل کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گزشتہ روز عیسوی سال کے رواں مہینے کی دس تاریخ کو بحرین کی مرکزی جیل کے قیدیوں کے قیام کا دن تھا کہ جو حکومتی فورسزکے خلاف قیدیوں کے توسط سے وقوع پذیرہوا تھا تاہم بحرینی حکومت کے ظالمانہ اوروحشیانہ اقدامات کے ذریعے یہ قیام شکست کھا گیا تھا اور اس ملک کی ساری جیلوں سےاس ظلم کے خلاف احتجاج کی فریاد بلند ہوئی تھی۔

درحقیقت بحرین جیسی حکومت کی جیلوں کے جلادوں کے خلاف قیدیوں کی بغاوت کی وجہ سے اٹھنے والے جہادی پیغام کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے مزید غوروفکرکی ضرورت ہے، کیونکہ انتہائی وحشیانہ صورت میں قیدیوں کو آزارواذیتیں پہنچانا اس قسم کی حکومت کا ہمیشہ سےحربہ رہا ہے تاکہ احتجاجی آوازکو دبایا جاسکے۔ بنابریں ہرعقلمند انسان سمجھتا ہےکہ بحرینی حکام قیدیوں کی مخالف آواز کو سننے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اوران کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔ اس جدوجہد کا عروج یہ ہےکہ کچھ جوان (جو) جیسی جیل کی سلاخوں کو توڑکربحرین کی فاسد اور ظالم حکومت کے سیکیورٹی امورکی کمزوری کوثابت کرتے ہیں۔
(جو) جیل کے قیام کا دوبارہ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہےکہ کچھ قیدیوں نے مارچ ۲۰۱۵ء کو ایک قیدی پرسیکیورٹی فورسزکے ظلم وستم اوران کے گھروالوں سے ملاقات کرنے کے لیے اجازت نہ دینے کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا بے تحاشا استعمال کیا کہ جو قیدیوں کے دم گھٹنے کا سبب بنا تھا اوریہی چیز طرفین کے درمیان لڑائی کاباعث بنی تھی۔ سیکیورٹی فورسزنے شدید ترین اسلحہ سےاستفادہ کرتے ہوئے قیدیوں کی استقامت کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے(عباس سمیع)، (رضا الغسرہ) اور(سامی مشیمع) وغیرہ جیسے کچھ جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت(جو)جیل کا سانحہ دوبار رونما ہونے والا ہے اورہرروز تمام قیدیوں میں یہ چیز سرایت کررہی ہے کیونکہ انہیں بنیادی ترین حقوق سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ موصولہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہےکہ بحرینی حکومت نے قیدیوں کےساتھ جسمانی اورنفسیاتی آزارواذیتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی ہوئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ بحرینی حکومت سے وابستہ سیکیورٖٹی فورسز کس قانونی اورعرفی جوازاورحق کی بنا پربحرینی شہریوں اورقیدیوں پراس طرح کے مظالم ڈھا رہی ہیں؟ جبکہ(جو) جیل میں قیدیوں سے سلوک اس ملک میں انسانی حقوق کے پامال ہونےکا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ کیا علاقائی اوربین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس قسم کے مظالم پراپنے ردعمل کا اظہارنہیں کرنا چاہیے؟ یا یہ کہ سعودی عرب ، امریکہ اورانگلستان کی جانب سےاس ظالم اورفاسد حکومت کی حمایت ، انسانی حقوق کےحامیوں کی حقیقت اورحق بات کہنےمیں رکاوٹ بنی ہوئی ہے؟
یہاں پر قیدیوں کےساتھ وحشیانہ سلوک اورلوگوں کے درمیان مذہبی اختلافات کو ابھارنے کے لیے بحرین کی جیلوں کے قیدیوں اورجلادوں کو دی جانے والی ٹریننگ کی طرف اشارہ کرنا چاہیے، درحقیقت یہ حکومت اپنےمظالم پرپردہ ڈالنےاوربہت سے اسلامی اورعربی ممالک کی ہمدردی کو جلب کرنے کے لیے دینی اورمذہبی اختلافات کو ہوا دینے کو مناسب ترین راہ حل جانتی ہے۔
قابل ذکر ہےکہ ہیومن رائٹس واچ نے(جو) جیل میں وحشیانہ اورظالمانہ برتاوکے بارے میں مستقل تحقیقات انجام دینےکی ضرورت کےپیش نظر اپنی سالانہ رپورٹ میں قیدیوں اورمخالفین کے خلاف غیرانسانی اقدامات اوروحشیانہ آزارواذیتوں کی ضرورت پرزوردیا ہوا ہے۔
آخرمیں کہنا چاہیےکہ بحرینی حکومت، آل سعود کی حمایت حاصل ہےاورسعودی فورسز(سپرجزیرہ) کے عنوان سے بحرین کی سرزمین پرموجود ہیں تاکہ وہ اس طرح ظاہرکریں کہ وہ خلیجی تعاون کونسل سے وابستہ فورسز ہیں۔اسی طرح امارات کی فورسز بھی اسی بہانے سےبحرین کی سرزمین پرموجود ہیں۔ امریکہ اورانگلستان کی فورسز بھی بحرینی حکومت کی جانب سے بنائے جانےوالے قوانین کی بنا پراس ملک میں موجود ہیں کہ جن کا مقصد بحرینی عوام کے مظاہروں کو کچلنا ہے، جس طرح کہ(جو) جیل اس کا ایک واضح ترین نمونہ ہے۔

.......

/169